سنن نسائی حدیث ۱۲۴۲ - نماز میں شک کا درست طریقہ
نماز میں شک ہو جائے تو سجدہ سہو کیسے کریں؟
سنن نسائی : ۱۲۴۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۴۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ , فَلْيَتَحَرَّ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يَفْرُغُ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں شک ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ غور و فکر کرے، (اور ظن غالب کو تلاش کرے) اور نماز سے فارغ ہو جانے کے بعد دو سجدے کر لے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز میں شک کی صورت میں ایک سیدھا اور آسان طریقہ بتایا گیا ہے۔ اگر نمازی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ فوراً گھبراہٹ میں نماز نہ توڑے، بلکہ غور کرے اور جس بات پر غالب گمان ہو، اسے اختیار کرے۔ یہی معنی ہے کہ وہ درست بات کو تلاش کرے۔ اس کے بعد نماز مکمل کرے اور فارغ ہونے کے بعد دو سجدے کرے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع سجدہ سہو ہے، یعنی نماز میں بھول یا شک کی اصلاح۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں شک آ جانا ممکن ہے، مگر اس کا حل بھی شریعت نے بتا دیا ہے۔ نمازی کو چاہیے کہ وہ لاپرواہی کے بجائے سنجیدگی سے صحیح پہلو کو سمجھے اور پھر سہو کے دو سجدوں سے نماز کی کمی یا خلل کی تلافی کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں شک ہو جائے تو سوچ کر غالب گمان کو اختیار کرنا چاہیے۔
- شک کی وجہ سے فوراً نماز چھوڑنے کی تعلیم نہیں دی گئی۔
- نماز مکمل کرنے کے بعد دو سجدہ سہو کیے جاتے ہیں۔
- نماز میں دھیان اور احتیاط دونوں ضروری ہیں۔
