سنن نسائی حدیث ۱۲۵۰ - شک پر سجدہ بعد تسلیم
شک کی نماز میں سجدہ سہو بعد تسلیم
سنن نسائی : ۱۲۵۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۵۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسَافِعٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ " .
عبداللہ بن جعفر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۵۰ کا خلاصہ
یہ روایت بھی عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے نقل ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنی نماز میں شک کرے، وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے۔ یہاں لفظ بعد التسلیم آیا ہے، یعنی تسلیم کے بعد۔ اس سے اس روایت کا مرکزی نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ نماز میں شک کی صورت میں دو سجدہ سہو کیے جائیں۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ شک کو نظر انداز کر دیا جائے، بلکہ نماز کے بعد اصلاح کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ سجدہ سہو کا یہ حکم نمازی کو بے چینی سے بچاتا ہے اور اسے سنت کے مطابق عمل کرنے کی راہ دکھاتا ہے۔ اس روایت کو پڑھتے ہوئے بات صاف رہنی چاہیے کہ متن کا زور شک، سلام، اور دو سجدوں پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شک کی صورت میں سلام کے بعد دو سجدہ سہو کیے جاتے ہیں۔
- نماز میں آنے والے شک کی اصلاح سنت کے مطابق ہونی چاہیے۔
- حدیث مختصر ہے، اس لیے اس کے الفاظ ہی اصل رہنمائی ہیں۔
- نمازی کو شک کے بعد شرعی طریقے پر عمل کرنا چاہیے۔
