سنن نسائی حدیث ۱۲۴۹ - سلام کے بعد سجدہ سہو

نماز میں شک ہو تو سلام کے بعد دو سجدے

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۴۹

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ , فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ " .

عبداللہ بن جعفر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اس کی نماز میں شک ہو جائے، تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے“۔

سنن نسائی حدیث ۱۲۴۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اس کی نماز میں شک ہو جائے، وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے۔ یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر نماز میں شک کے ایک خاص پہلو کو واضح کرتی ہے، یعنی سجدہ سہو بعد سلام۔ اس میں لمبی تفصیل نہیں دی گئی، بلکہ حکم صاف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اگر نمازی کو نماز کے دوران یا نماز کے بارے میں شک محسوس ہو، تو وہ نماز کو ختم کرنے کے بعد دو سجدے کرے۔ اس حدیث میں سجدہ سہو، نماز میں شک، اور سلام کے بعد دو سجدوں کا موضوع نمایاں ہے۔ اس سے نمازی کو یہ اطمینان ملتا ہے کہ بھول یا شک کی صورت میں اصلاح کا شرعی طریقہ موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں شک ہو تو سلام کے بعد دو سجدہ سہو کیے جائیں۔
  • سجدہ سہو کا حکم مختصر الفاظ میں بھی واضح ہے۔
  • شک کی صورت میں نماز کی اصلاح کا راستہ بتایا گیا ہے۔
  • نماز کے بعد بھی سہو کی تلافی کی صورت موجود ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں