سنن نسائی حدیث ۱۲۴۸ - وہم میں صواب کی تلاش

نماز کے وہم میں درست بات کو کیسے تلاش کیا جائے؟

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۴۸

أخبرنا سويد بن نصر قال أنبأنا عبد الله عن بن عون عن إبراهيم قال : كانوا يقولون إذا أوهم يتحرى الصواب ثم يسجد سجدتين ‏.‏

ابراہیم نخعی روایت:

لوگ کہتے تھے کہ جب کسی آدمی کو وہم ہو جائے تو اسے صحیح و صواب جاننے کی کوشش کرنی چاہیئے، پھر دو سجدے کرے۔

سنن نسائی حدیث ۱۲۴۸ کا خلاصہ

یہ روایت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے بیان پر مشتمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ کہا کرتے تھے: جب کسی آدمی کو نماز میں وہم ہو جائے تو اسے صحیح اور صواب جاننے کی کوشش کرنی چاہیے، پھر دو سجدے کرے۔ اس میں سجدہ سہو کا وہی آسان اصول سامنے آتا ہے جو اسی باب کی دیگر روایات میں بھی ملتا ہے۔ نمازی کو چاہیے کہ وہ نماز میں آنے والے وہم کو معمولی سمجھ کر نہ چھوڑے، بلکہ اپنی نماز کے بارے میں سوچے کہ کون سی بات درست کے زیادہ قریب ہے۔ پھر اسی کے مطابق نماز کا معاملہ مکمل کرے اور دو سجدہ سہو کرے۔ اس روایت میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، مگر بات بہت واضح ہے: شک یا وہم کی حالت میں درست پہلو اختیار کیا جائے اور پھر سہو کے دو سجدے کیے جائیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں وہم ہو تو صحیح بات تلاش کرنے کی عادت ہونی چاہیے۔
  • سجدہ سہو نماز میں ہونے والی بھول کی اصلاح کا طریقہ ہے۔
  • دین میں شک کی صورت میں لاپرواہی نہیں بلکہ احتیاط سکھائی گئی ہے۔
  • مختصر روایت بھی نماز کے عملی مسئلے کو واضح کر دیتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں