سنن نسائی حدیث ۱۲۴۷ - شک ہو تو صواب اختیار کریں

نماز میں شک یا وہم ہو تو کیا کریں؟

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۴۷

أخبرنا سويد بن نصر قال أنبأنا عبد الله عن مسعر عن الحكم عن أبي وائل عن عبد الله قال : من شك أو أوهم فليتحر الصواب ثم ليسجد سجدتين ‏.‏

عبداللہ بن مسعود روایت:

جسے کچھ شک یا وہم ہو جائے تو اسے صحیح اور صواب جاننے کی کوشش کرنی چاہیئے، پھر دو سجدے کرے۔

سنن نسائی حدیث ۱۲۴۷ کا خلاصہ

اس روایت میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نماز میں شک یا وہم کا مختصر حکم نقل ہوا ہے۔ فرمایا گیا کہ جسے شک یا وہم ہو جائے، وہ صحیح اور صواب جاننے کی کوشش کرے، پھر دو سجدے کرے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں شک آنے پر اصل کام یہ ہے کہ آدمی درست پہلو کو تلاش کرے۔ صرف شک کے پیچھے چلنا درست نہیں، اور نہ ہی بے دھیانی سے نماز کو جاری رکھنا چاہیے۔ سجدہ سہو کا مقصد اسی بھول یا شک کی اصلاح ہے۔ اس حدیث کے مطابق نمازی کو اپنے غالب گمان، دھیان اور درست سمجھ کے مطابق نماز مکمل کرنی چاہیے، پھر دو سجدے کر کے نماز کے اس خلل کی تلافی کرنی چاہیے۔ یہ ایک آسان اور عملی رہنمائی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شک یا وہم کی صورت میں درست بات تلاش کرنا ضروری ہے۔
  • نماز میں سہو ہو تو دو سجدے کیے جاتے ہیں۔
  • نمازی کو اپنے غالب گمان کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
  • یہ روایت نماز میں احتیاط اور اصلاح دونوں سکھاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں