سنن نسائی حدیث ۱۲۴۶ - نماز میں صواب تلاش کرنا
نماز میں وہم ہو تو صواب تلاش کریں
سنن نسائی : ۱۲۴۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۴۶
أخبرنا سويد بن نصر قال أنبأنا عبد الله عن شعبة عن الحكم قال سمعت أبا وائل يقول قال عبد الله : من أوهم في صلاته فليتحر الصواب ثم يسجد سجدتين بعد ما يفرغ وهو جالس .
عبداللہ بن مسعود روایت:
جسے اپنی نماز میں وہم ہو جائے تو اسے صحیح اور صواب جاننے کی کوشش کرنی چاہیئے، پھر فارغ ہونے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدہ کرے۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۴۶ کا خلاصہ
یہ روایت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر آئی ہے۔ اس میں نماز میں وہم کی صورت میں ایک مختصر مگر صاف اصول بتایا گیا ہے۔ جسے اپنی نماز میں وہم ہو جائے، وہ صحیح اور صواب بات جاننے کی کوشش کرے۔ یعنی اندازے سے کوئی قدم نہ اٹھائے، بلکہ جس بات پر دل کو زیادہ اطمینان ہو اور جو درست معلوم ہو، اسے اختیار کرے۔ پھر جب نماز سے فارغ ہو جائے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔ اس روایت میں سجدہ سہو کا پہلو بہت واضح ہے۔ یہاں زور اس بات پر ہے کہ نماز میں شک یا وہم کو بے توجہی سے نہ چھوڑا جائے، بلکہ نماز کے اندر اپنی سمجھ کے مطابق صحیح صورت کو تلاش کیا جائے، پھر سہو کے دو سجدوں سے اس معاملے کی اصلاح کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں وہم ہو تو صحیح بات جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
- بغیر سوچے نماز کو ادھورا یا غلط نہیں چھوڑنا چاہیے۔
- نماز سے فارغ ہونے کے بعد بیٹھ کر دو سجدہ سہو کیے جا سکتے ہیں۔
- سہو کی اصلاح میں سنجیدگی اور احتیاط مطلوب ہے۔
