سنن نسائی حدیث ۱۳۰۰ - نماز میں حاجت مانگنے کی دعا
نماز میں تسبیح کے بعد حاجت مانگنے کا طریقہ
سنن نسائی : ۱۳۰۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۳۰۰
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ أَخُو سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَدْعُو بِهِنَّ فِي صَلَاتِي قَالَ : " سَبِّحِي اللَّهَ عَشْرًا , وَاحْمَدِيهِ عَشْرًا , وَكَبِّرِيهِ عَشْرًا ، ثُمَّ سَلِيهِ حَاجَتَكِ يَقُلْ نَعَمْ نَعَمْ " .
انس بن مالک روایت:
ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئیے جن کے ذریعہ میں اپنی نماز میں دعا کیا کروں، تو آپ نے فرمایا: ”دس بار «سبحان اللہ»، دس بار «الحمد لله»، دس بار «اللہ أكبر» کہو، اس کے بعد تم اللہ سے اپنی حاجت مانگو، وہ ہاں، ہاں کہے گا“، (یعنی جو تم مانگو گی وہ تمہیں دے گا)۔
سنن نسائی حدیث ۱۳۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ مجھے ایسے کلمات سکھا دیجئے جن کے ذریعے میں اپنی نماز میں دعا کیا کروں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: دس بار سبحان اللہ، دس بار الحمدللہ، دس بار اللہ اکبر کہو، پھر اللہ سے اپنی حاجت مانگو، وہ ہاں ہاں کہے گا۔ اس حدیث میں نماز کے اندر دعا کے لیے ایک خاص ترتیب بتائی گئی ہے: پہلے اللہ کی تسبیح، پھر حمد، پھر تکبیر، پھر حاجت۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا سے پہلے اللہ کو یاد کرنا اور اس کی پاکی و بڑائی بیان کرنا ایک اچھا طریقہ ہے۔ حدیث میں جو تعداد بیان ہوئی ہے، اسی کو نقل کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں دعا کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم سے کلمات سیکھے جا سکتے ہیں۔
- دس بار سبحان اللہ، دس بار الحمدللہ اور دس بار اللہ اکبر کہنے کا ذکر آیا ہے۔
- اللہ کی تسبیح و حمد کے بعد اپنی حاجت مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
- دعا میں حاجت اللہ ہی سے مانگنی چاہیے۔
