سنن نسائی حدیث ۱۲۹۹ - التحیات اور تشہد کا صحیح طریقہ

تشہد میں التحیات پڑھنے کا صحیح طریقہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۹۹

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ , وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , وَاللَّفْظُ لَهُ , قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ , قُلْنَا : السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ , السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ , فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُولُوا : السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ , وَلَكِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ , فَلْيَقُلِ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ , عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ , فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ بَعْدُ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ يَدْعُو بِهِ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں بیٹھتے تو کہتے: سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں کی طرف سے، سلام ہو فلاں پر اور فلاں پر، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «السلام على اللہ» نہ کہو، کیونکہ اللہ تو خود ہی سلام ہے، ہاں جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو چاہیئے کہ وہ کہے: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين» ”تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو“ کیونکہ جب تم اس طرح کہو گے تو زمین و آسمان میں رہنے والے ہر نیک بندے کو یہ شامل ہو گا، (پھر کہے): «أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ پھر اس کے بعد اپنی پسندیدہ دعا جو بھی چاہے کرے“۔

سنن نسائی حدیث ۱۲۹۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نماز میں بیٹھتے تو کہتے: اللہ پر سلام ہو اس کے بندوں کی طرف سے، اور فلاں فلاں پر سلام ہو۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اللہ پر سلام نہ کہو، کیونکہ اللہ خود سلام ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے قعدہ میں پڑھنے کے الفاظ سکھائے: التحیات للہ والصلوات والطیبات، نبی صلى الله عليه وسلم پر سلام، اپنے اوپر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام، پھر کلمۂ شہادت۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ جب “السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين” کہا جائے گا تو آسمان و زمین کے ہر نیک بندے کو یہ سلام پہنچے گا۔ پھر اس کے بعد آدمی اپنی پسند کی دعا کر سکتا ہے۔ یہ حدیث نماز کے تشہد اور دعا کے ادب کو بہت صاف انداز میں سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ پر سلام کہنے سے منع کیا گیا، کیونکہ اللہ خود سلام ہے۔
  • قعدہ میں التحیات اور شہادت کے الفاظ سکھائے گئے ہیں۔
  • نیک بندوں کے لیے سلامتی کی دعا بہت وسیع ہے۔
  • تشہد کے بعد اپنی پسند کی دعا کرنے کی اجازت بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں