سنن نسائی حدیث ۱۳۲۵ - سلام کے الفاظ اور رخ کا طریقہ
نماز میں السلام عليكم ورحمة اللہ کہنے کا طریقہ
سنن نسائی : ۱۳۲۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۳۲۵
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ : " كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ مِنْ هَاهُنَا , وَبَيَاضُ خَدِّهِ مِنْ هَاهُنَا " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف اور بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے، اور (آپ اپنے سر کو اتنا گھماتے) کہ آپ کے رخسار کی سفیدی ادھر سے، اور ادھر سے دکھائی دیتی۔
سنن نسائی حدیث ۱۳۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز کے سلام کے الفاظ اور انداز دونوں بیان ہوئے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مطابق نبی اکرم صلى الله عليه وسلم دائیں طرف اور بائیں طرف السلام عليكم ورحمة اللہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے تھے۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم سر اتنا گھماتے کہ رخسار کی سفیدی دونوں طرف دکھائی دیتی۔ اس سے نماز میں سلام پھیرنے کی حدیث کا مقصد سمجھ آتا ہے کہ نماز کا اختتام صاف الفاظ اور واضح رخ کے ساتھ ہوتا تھا۔ یہ روایت عام نمازی کے لیے آسان ہے، کیونکہ اس میں الفاظ بھی موجود ہیں اور عمل کی شکل بھی۔ سلام میں جلدی یا بے توجہی کے بجائے سنت کے مطابق سکون اور ترتیب مناسب ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دائیں اور بائیں دونوں طرف السلام عليكم ورحمة اللہ کہنا اس روایت میں آیا ہے۔
- سلام پھیرتے وقت سر کا رخ بدلنے کا ذکر موجود ہے۔
- نماز کے اختتام میں الفاظ اور عمل دونوں اہم ہیں۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کو صحابہ نے لفظاً اور عملاً نقل کیا۔
