سنن نسائی حدیث ۱۳۳۵ - نماز کے بعد امام کا رخ پھیرنا
نماز کے بعد امام کا مقتدیوں کی طرف رخ کرنا
سنن نسائی : ۱۳۳۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۳۳۵
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ : " صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا صَلَّى انْحَرَفَ " .
یزید بن اسود روایت:
´یزید بن اسود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی، جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے اپنا رخ پلٹ کر مقتدیوں کی طرف کر لیا۔
سنن نسائی حدیث ۱۳۳۵ کا خلاصہ
یزید بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ جب نبی صلى الله عليه وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنا رخ پلٹ کر مقتدیوں کی طرف کر لیا۔ یہ حدیث مختصر ہے، مگر نماز کے بعد امام کے ایک عمل کو بیان کرتی ہے۔ اس میں خطبہ، لمبی گفتگو یا کوئی الگ حکم بیان نہیں ہوا، صرف اتنا ذکر ہے کہ نماز مکمل ہونے کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم مقتدیوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ نماز کے بعد امام کا رخ پھیرنے کی حدیث ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو جماعت کے بعد امام کے بیٹھنے اور رخ کرنے کے طریقے کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ روایت کا دائرہ اسی عمل تک محدود رکھا جانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فجر کی نماز کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم مقتدیوں کی طرف متوجہ ہوئے۔
- امام کا نماز کے بعد رخ پھیرنا اس روایت میں آیا ہے۔
- صحابی نے مختصر مگر واضح عمل نقل کیا۔
- جماعت کے بعد امام اور مقتدیوں کے تعلق کا ایک انداز معلوم ہوتا ہے۔
