سنن نسائی حدیث ۱۳۴۵ - نماز میں سہو کے احکام و مسائل
سنن نسائی : ۱۳۴۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۳۴۵
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَكَانَ مِنَ الْخَائِفِينَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلَّى تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ , فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنِ الْكَلِمَاتِ , فَقَالَ : " إِنْ تَكَلَّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابِعًا عَلَيْهِنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , وَإِنْ تَكَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ , سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے کوئی بھلی بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس پر قیامت کے دن تک بطور مہر ہوں گے، اور اگر اس کے علاوہ اس نے کوئی اور بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس کے لیے کفارہ ہوں گے، وہ یہ ہیں: «سبحانك اللہم وبحمدك أستغفرك وأتوب إليك» ”تیری ذات پاک ہے اے اللہ! اور تیری حمد کے ذریعہ سے میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں، اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں“۔
