سنن نسائی حدیث ۱۳۷۴ - جمعہ بہترین دن ہے
جمعہ بہترین دن ہے: آدم علیہ السلام کا ذکر
سنن نسائی : ۱۳۷۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۳۷۴
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , فِيهِ خُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام , وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ , وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اور اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا“۔
سنن نسائی حدیث ۱۳۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر دن جس میں سورج نکلا، جمعہ کا دن ہے۔ پھر اسی دن آدم علیہ السلام کے پیدا کیے جانے، جنت میں داخل کیے جانے اور جنت سے نکالے جانے کا ذکر آیا۔ یہ حدیث جمعہ کی فضیلت کو مختصر مگر بہت مؤثر انداز میں بیان کرتی ہے۔ عام طور پر لوگ جمعہ کی فضیلت، جمعہ بہترین دن ہے، اور آدم علیہ السلام کے واقعات والی حدیث تلاش کرتے ہیں۔ اس روایت میں جمعہ کو عام دنوں سے الگ ایک خاص دن کے طور پر پیش کیا گیا ہے، مگر بیان صرف انہی باتوں تک محدود ہے جو حدیث میں آئی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جمعہ کو سورج نکلنے والے دنوں میں بہترین دن کہا گیا ہے۔
- آدم علیہ السلام کی تخلیق کا ذکر اسی دن سے جوڑا گیا ہے۔
- آدم علیہ السلام کے جنت میں داخلے کا ذکر بھی روایت میں ہے۔
- حدیث جمعہ کی قدر دل میں بڑھاتی ہے۔
