سنن نسائی حدیث ۱۳۷۵ - جمعہ کے دن زیادہ درود بھیجنا
جمعہ کے دن درود شریف زیادہ پڑھنے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۳۷۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۳۷۵
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام , وَفِيهِ قُبِضَ , وَفِيهِ النَّفْخَةُ , وَفِيهِ الصَّعْقَةُ , فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ , فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ أَيْ يَقُولُونَ قَدْ بَلِيتَ ؟ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَام " .
اوس بن اوس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے دنوں میں سب سے افضل (بہترین) جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی، اور اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن بیہوشی طاری ہو گی، لہٰذا تم مجھ پر زیادہ سے زیادہ صلاۃ (درود و رحمت) بھیجو کیونکہ تمہاری صلاۃ (درود و رحمت) مجھ پر پیش کیے جائیں گے“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری صلاۃ (درود و رحمت) آپ پر کس طرح پیش کی جائیں گی حالانکہ آپ ریزہ ریزہ ہو چکے ہوں گے یعنی وہ کہنا چاہ رہے تھے، کہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے جسم کو کھائے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۳۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کو افضل دنوں میں سے بتایا۔ اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن بیہوشی طاری ہو گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر زیادہ سے زیادہ صلاۃ یعنی درود بھیجو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جائے گا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ آپ پر درود کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ جسم بوسیدہ ہو چکا ہو گا؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔ یہ حدیث جمعہ اور درود شریف کے تعلق کو صاف بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادہ درود بھیجنے کا حکم آیا ہے۔
- درود نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیے جانے کا ذکر ہے۔
- جمعہ کے دن آدم علیہ السلام کے چند اہم واقعات بیان ہوئے ہیں۔
- زمین کے لیے انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام بتایا گیا ہے۔
