سنن نسائی حدیث ۱۴۱۹ - معتدل خطبہ اور نماز
جمعہ کا معتدل خطبہ اور اللہ کا ذکر
سنن نسائی : ۱۴۱۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۱۹
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قال : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا ، ثُمَّ يَجْلِسُ ، ثُمَّ يَقُومُ وَيَقْرَأُ آيَاتٍ وَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا وَصَلَاتُهُ قَصْدًا " .
جابر بن سمرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور کچھ آیتیں پڑھتے، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے اور آپ کا خطبہ درمیانی ہوتا تھا، اور نماز بھی درمیانی ہوتی تھی۔
سنن نسائی حدیث ۱۴۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، کچھ آیات پڑھتے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے۔ اسی روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ آپ کا خطبہ درمیانی ہوتا تھا اور نماز بھی درمیانی ہوتی تھی۔ اس حدیث میں جمعہ کے خطبہ کے کئی آداب ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ خطبہ کھڑے ہو کر دیا جاتا، بیچ میں بیٹھا جاتا، قرآن کی آیات پڑھی جاتیں، اللہ کا ذکر کیا جاتا، اور خطبہ و نماز میں اعتدال رکھا جاتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ جمعہ میں نصیحت، قرآن اور ذکر سب شامل تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خطبہ میں قرآن کی آیات پڑھنے کا ذکر ہے۔
- اللہ کا ذکر خطبہ کا اہم حصہ تھا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کا خطبہ اور نماز درمیانی انداز میں ہوتے تھے۔
