سنن نسائی حدیث ۱۴۱۵ - ذکر، مختصر خطبہ اور خدمت
نبی صلى الله عليه وسلم کا ذکر، مختصر خطبہ اور کمزوروں کی خدمت
سنن نسائی : ۱۴۱۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۱۵
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ غَزْوَانَ ، قال : أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قال : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُقَيْلٍ ، قال : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ وَيُقِلُّ اللَّغْوَ وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ وَيُقَصِّرُ الْخُطْبَةَ ، وَلَا يَأْنَفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُ الْحَاجَةَ " .
عبداللہ بن ابی اوفی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذکرو اذکار زیادہ کرتے، لایعنی باتوں سے گریز کرتے، نماز لمبی پڑھتے، اور خطبہ مختصر دیتے تھے، اور بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ جانے میں کہ ان کی ضرورت پوری کریں، عار محسوس نہیں کرتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۴۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چند عادات بیان کرتے ہیں۔ آپ اللہ کا ذکر زیادہ کرتے تھے، لایعنی باتوں سے بچتے تھے، نماز لمبی پڑھتے تھے اور خطبہ مختصر دیتے تھے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہوا کہ آپ بیوہ اور مسکین کے ساتھ چلنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے تاکہ ان کی ضرورت پوری کر دیں۔ یہ حدیث عبادت اور اخلاق دونوں کو ایک ساتھ دکھاتی ہے۔ ایک طرف ذکر، نماز اور خطبہ ہے، دوسری طرف کمزور لوگوں کی عملی مدد ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ دینی زندگی صرف الفاظ تک محدود نہیں، بلکہ ضرورت مند کے کام آنا بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں شامل تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کا ذکر زیادہ کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کی عادت مبارک تھی۔
- لایعنی باتوں سے بچنا ایک پسندیدہ طرز عمل ہے۔
- بیوہ اور مسکین کی ضرورت پوری کرنے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
