سنن نسائی حدیث ۱۴۱۴ - حسن حسین رضی اللہ عنہم سے شفقت
اولاد آزمائش بھی ہے اور شفقت کا حق بھی
سنن نسائی : ۱۴۱۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۱۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قال : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ فِيهِمَا ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ كَلَامَهُ , فَحَمَلَهُمَا ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ قَالَ : " صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15 , رَأَيْتُ هَذَيْنِ يَعْثُرَانِ فِي قَمِيصَيْهِمَا ، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ كَلَامِي فَحَمَلْتُهُمَا " .
بریدہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہم لال رنگ کی قمیص پہنے گرتے پڑتے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (منبر سے) اتر پڑے، اور اپنی بات بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو گود میں اٹھا لیا، پھر منبر پر واپس آ گئے، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ کہا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ”تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں“ میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو اٹھا لیا“۔
سنن نسائی حدیث ۱۴۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہم سرخ قمیص پہنے گرتے پڑتے آئے۔ آپ منبر سے اترے، اپنی بات روک دی، دونوں کو گود میں اٹھایا، پھر منبر پر واپس آئے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے سچ کہا ہے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں۔ پھر آپ نے بتایا کہ میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے دیکھا تو صبر نہ کر سکا، یہاں تک کہ اپنی گفتگو بیچ میں کاٹ دی اور انہیں اٹھا لیا۔ اس حدیث میں بچوں سے شفقت، خطبہ کا واقعہ اور اولاد کی آزمائش کا ذکر ایک ساتھ آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم بچوں پر نہایت شفقت فرماتے تھے۔
- اولاد انسان کے لیے آزمائش بھی ہو سکتی ہے۔
- ضرورت کے وقت بچوں کا خیال رکھنا اہم ہے، جیسا کہ اس واقعہ میں آیا۔
