سنن نسائی حدیث ۱۴۱۱ - حسن رضی اللہ عنہ کی سرداری

حسن رضی اللہ عنہ اور مسلمانوں میں صلح کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۱۱

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى إِسْرَائِيلُ بْنُ مُوسَى ، قال : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ ، يَقُولُ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ مَعَهُ ، وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ مَرَّةً , وَيَقُولُ : " إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ " .

ابوبکرہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، حسن رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، تو کبھی ان کی طرف، اور آپ فرما رہے تھے: ”میرا یہ بچہ سردار ہے، اور شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے“۔

سنن نسائی حدیث ۱۴۱۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، حسن رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی حسن رضی اللہ عنہ کی طرف، اور فرماتے کہ میرا یہ بچہ سردار ہے، اور شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے۔ اس حدیث میں حسن رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور صلح کی اہمیت صاف طور پر آتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر یہ بات بیان فرمائی۔ روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان صلح ایک بڑی بھلائی ہے، اور حسن رضی اللہ عنہ کے لیے عزت کا خاص ذکر ہوا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حسن رضی اللہ عنہ کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم نے سرداری کا لفظ فرمایا۔
  • مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح بڑی نعمت ہے۔
  • منبر پر امت کے فائدہ کی باتیں بیان کی جا سکتی ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں