سنن نسائی حدیث ۱۴۱۲ - خطبہ میں سورہ ق

جمعہ کے خطبہ میں سورہ ق کی تلاوت

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۱۲

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قال : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قال : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنَةِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَتْ : " حَفِظْتُ ق وَالْقُرْءَانِ الْمَجِيدِ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " .

ام ہشام روایت:

میں نے «ق والقرآن المجيد» کو جمعہ کے دن منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سن سن کر یاد کیا ۱؎۔

سنن نسائی حدیث ۱۴۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام ہشام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے سورہ ق، یعنی ق والقرآن المجید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے جمعہ کے دن منبر پر سن سن کر یاد کی۔ اس روایت میں جمعہ کے خطبہ اور قرآن کی تلاوت کا تعلق واضح ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ منبر پر قرآن پڑھا جاتا تھا اور سننے والے اسے بار بار سن کر یاد بھی کر لیتے تھے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ خطبہ جمعہ صرف نصیحت نہیں، بلکہ قرآن سننے اور یاد رکھنے کا بھی موقع ہے۔ سننے والوں کی توجہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت دونوں اس روایت میں نمایاں ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جمعہ کے خطبہ میں قرآن کی تلاوت کا ذکر ملتا ہے۔
  • بار بار سننے سے قرآن یاد کیا جا سکتا ہے۔
  • خطبہ سننے والوں کو توجہ کے ساتھ سننا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں