سنن نسائی حدیث ۱۴۱۳ - خطبہ میں ہاتھ اٹھانے کا مسئلہ

خطبہ جمعہ میں ہاتھ اٹھانے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۱۳

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قال : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، أَنَّ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ رَفَعَ يَدَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَسَبَّهُ عُمَارَةُ بْنُ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيُّ ، وَقال : " مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ " .

حصین روایت:

بشر بن مروان نے جمعہ کے دن منبر پر (خطبہ دیتے ہوئے) اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، تو اس پر عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں برا بھلا کہا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ نہیں کیا، اور انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔

سنن نسائی حدیث ۱۴۱۳ کا خلاصہ

اس روایت میں حصین بیان کرتے ہیں کہ بشر بن مروان نے جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دیتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے اس پر ناپسندیدگی ظاہر کی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ نہیں کیا، پھر انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع خطبہ کے دوران ہاتھ اٹھانے کا انداز ہے۔ روایت میں پورا عمل بہت مختصر بیان ہوا ہے، اس لیے اسی حد تک بات کرنی چاہیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے طور پر یہاں شہادت کی انگلی کے اشارے کا ذکر آیا ہے، دونوں ہاتھ اٹھانے کا نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خطبہ کے عمل میں نبی صلى الله عليه وسلم کے طریقے کی پیروی اہم ہے۔
  • اس روایت میں دونوں ہاتھ اٹھانے کے بجائے انگلی کے اشارے کا ذکر ہے۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم منبر کے آداب کا خیال رکھتے تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں