سنن نسائی حدیث ۱۴۶۶ - الصلاة جامعة
الصلاة جامعة: سورج گرہن کی نماز باجماعت
سنن نسائی : ۱۴۶۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۶۶
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي أَنِ الصَّلَاةَ جَامِعَةً فَاجْتَمَعُوا وَاصْطَفُّوا ، فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو حکم دیا، تو اس نے ندا دی کہ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، تو سب جمع ہو گئے، اور انہوں نے صف بندی کی تو آپ نے انہیں چار رکوع، اور چار سجدوں کے ساتھ، دو رکعت نماز پڑھائی۔
سنن نسائی حدیث ۱۴۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سورج گرہن کے وقت کا طریقہ بیان کرتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم دیا کہ نماز کے لیے جمع ہونے کی ندا دے۔ لوگ آئے، صفیں بنائیں، اور آپ نے انہیں دو رکعت نماز پڑھائی جس میں چار رکوع اور چار سجدے تھے۔ اس روایت میں نماز کسوف کا اجتماعی پہلو صاف نظر آتا ہے۔ اعلان کا لفظ الصلاة جامعة تھا، یعنی لوگ نماز کے لیے جمع ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گرہن کا موقع لوگوں کو اللہ کی طرف اجتماعی طور پر متوجہ کرنے کا وقت ہے۔ حدیث میں صرف وہی طریقہ بیان ہوا ہے جو اس واقعے میں ادا کیا گیا، اس لیے اسے سادہ انداز میں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گرہن کے وقت لوگوں کو نماز کے لیے جمع کیا گیا۔
- نماز کسوف جماعت کے ساتھ بھی ادا کی گئی۔
- اس روایت میں دو رکعت میں چار رکوع اور چار سجدوں کا ذکر ہے۔
- صف بندی اور اجتماع نماز کے آداب میں شامل ہیں۔
