سنن نسائی حدیث ۱۴۶۵ - دو رکعت نماز کسوف
سورج گرہن پر فوری نماز: نبی صلى الله عليه وسلم کا عملی طریقہ
سنن نسائی : ۱۴۶۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۶۵
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قال : " كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَسَفَتِ الشَّمْسُ , فَوَثَبَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى انْجَلَتْ " .
ابوبکرہ روایت:
ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ سورج کو گرہن لگ گیا، تو آپ اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے جلدی سے اٹھے، اور دو رکعت نماز پڑھی یہاں تک کہ وہ چھٹ گیا۔
سنن نسائی حدیث ۱۴۶۵ کا خلاصہ
اس روایت میں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ایک عملی واقعہ بیان کرتے ہیں۔ صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے کہ سورج کو گرہن لگ گیا۔ آپ جلدی سے اٹھے، یہاں تک کہ کپڑا گھسیٹتے ہوئے تشریف لے گئے، اور دو رکعت نماز پڑھی۔ نماز اس وقت تک رہی جب تک گرہن چھٹ نہیں گیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سورج گرہن دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باتوں یا انتظار کو پسند نہیں کیا بلکہ فوراً نماز کی طرف بڑھے۔ نماز کسوف صرف ایک نظری حکم نہیں، بلکہ آپ کا عملی نمونہ بھی ہے۔ بندے کے لیے یہی سبق ہے کہ غیر معمولی نشانی دیکھے تو اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گرہن دیکھ کر نماز کی طرف جلدی کرنا نبوی عمل ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سورج گرہن پر دو رکعت نماز پڑھی۔
- نماز گرہن کے صاف ہونے تک جاری رہی۔
- غیر معمولی موقع پر اللہ کی طرف پلٹنا چاہیے۔
