سنن نسائی حدیث ۱۴۶۴ - گرہن ختم ہونے تک نماز

گرہن ختم ہونے تک نماز: نماز کسوف کا سبق

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۶۴

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ الْمَرْوَزِيُّ ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةٍ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ " .

ابوبکرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ تو کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے نہ کسی کے پیدا ہونے سے، جب تم ان دونوں کو گرہن لگا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ صاف ہو جائیں“۔

سنن نسائی حدیث ۱۴۶۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے ذریعے بتایا گیا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو باتیں بہت صاف فرمائیں: گرہن نہ کسی کی موت سے لگتا ہے نہ کسی کی پیدائش سے، اور جب تم اسے دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ صاف ہو جائے۔ اس میں نماز کسوف کا اصل مزاج سامنے آتا ہے کہ بندہ گرہن کو تماشہ نہ بنائے بلکہ اللہ کے سامنے کھڑا ہو۔ حدیث میں مدت بھی بیان ہوئی کہ نماز اور توجہ اس وقت تک رہے جب تک گرہن کھل نہ جائے۔ یہ بات انسان کو اللہ کی قدرت یاد دلاتی ہے اور غلط رسموں سے بچاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گرہن اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے، کسی انسان کے واقعے کا اثر نہیں۔
  • گرہن دیکھ کر نماز پڑھنا چاہیے۔
  • نماز اور اللہ کی طرف رجوع گرہن کھلنے تک جاری رکھا جا سکتا ہے۔
  • ایسے وقت میں دل کو اللہ کی قدرت کی طرف متوجہ رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں