سنن نسائی حدیث ۱۴۶۳ - سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں
چاند اور سورج گرہن: نماز کسوف کی نبوی تعلیم
سنن نسائی : ۱۴۶۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۶۳
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قال : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ , وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا " .
ابومسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج گرہن اور چاند گرہن کسی کے مرنے سے نہیں لگتا، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو“۔
سنن نسائی حدیث ۱۴۶۳ کا خلاصہ
اس روایت میں ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن اور چاند گرہن کے بارے میں لوگوں کی سوچ درست فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ یہ کسی کی موت کی وجہ سے نہیں ہوتے، بلکہ اللہ عزوجل کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اس جملے میں عقیدہ کی صفائی بھی ہے اور عمل کی رہنمائی بھی۔ بندہ جب ایسے نشان دیکھے تو اسے اندازوں اور باتوں میں نہیں پڑنا چاہیے بلکہ نماز کی طرف آنا چاہیے۔ نماز کسوف اسی توجہ کا نام ہے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کے بدلتے حالات بھی اللہ کی یاد دلانے والے ہیں، نہ کہ لوگوں کے بارے میں بے بنیاد باتیں بنانے کا ذریعہ۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گرہن کو کسی انسان کی موت سے منسوب نہ کیا جائے۔
- اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ بندے متوجہ ہوں۔
- گرہن دیکھنے پر نماز پڑھنا نبوی ہدایت ہے۔
- بے بنیاد عقیدوں کے بجائے واضح حدیث کو ماننا چاہیے۔
