سنن نسائی حدیث ۱۴۶۲ - گرہن اللہ کی نشانی ہے

سورج گرہن کی نماز: اللہ کی نشانی دیکھ کر عبادت

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۶۲

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قال : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَعَالَى ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند گرہن کسی کے مرنے اور کسی کے پیدا ہونے سے نہیں لگتا ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو“۔

سنن نسائی حدیث ۱۴۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑی غلط فہمی ختم فرمائی کہ سورج گرہن یا چاند گرہن کسی انسان کے مرنے یا پیدا ہونے سے نہیں لگتا۔ آپ نے صاف بتایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اس لیے مومن کا رویہ خوف، توجہ اور نماز والا ہونا چاہیے، نہ کہ افواہوں اور رسموں والا۔ یہاں اصل حکم یہ ہے کہ جب سورج یا چاند کو گرہن لگا دیکھو تو نماز پڑھو۔ نماز کسوف کا مطلب یہی ہے کہ بندہ آسمان کے ایک غیر معمولی حال کو دیکھ کر اللہ کی طرف پلٹے۔ یہ حدیث عقیدہ بھی درست کرتی ہے اور عمل بھی سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گرہن کو کسی کی موت یا پیدائش سے جوڑنا درست نہیں۔
  • سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔
  • گرہن کے وقت مسلمان کو نماز کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
  • ایسے موقع پر افواہ کے بجائے نبوی رہنمائی کو اختیار کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں