سنن نسائی حدیث ۱۴۸۱ - دو رکوع دو سجدے
نماز کسوف میں لمبا رکوع اور سجدہ: عبداللہ بن عمروؓ کی روایت
سنن نسائی : ۱۴۸۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۸۱
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي طُعْمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قال : " كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ , وَكَانَتْ عَائِشَةُ , تَقُولُ : مَا سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُجُودًا , وَلَا رَكَعَ رُكُوعًا أَطْوَلَ مِنْهُ , خَالَفَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ .
عبداللہ بن عمرو روایت:
سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکوع کیے، اور دو سجدے کیے، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکوع اور دو سجدے کیے، پھر سورج سے گرہن چھٹ گیا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی سجدہ اور کوئی رکوع ان سے لمبا نہیں کیا۔ علی بن مبارک نے معاویہ بن سلام کی مخالفت کی ہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۴۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکوع اور دو سجدے کیے، پھر کھڑے ہوئے اور دوبارہ دو رکوع اور دو سجدے کیے۔ پھر سورج سے گرہن چھٹ گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان بھی روایت میں شامل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی رکوع اور کوئی سجدہ اس سے زیادہ لمبا نہیں کیا۔ اس حدیث میں نماز کسوف کی ایک عملی صورت اور اس کی طوالت بیان ہوئی ہے۔ متن کے آخر میں علی بن مبارک کے اختلاف کا ذکر ہے، اس لیے روایت کو اسی نقل کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔ اہم سبق یہ ہے کہ گرہن کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی نماز کے ذریعے اللہ کی طرف رجوع کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گرہن کے وقت نبی صلى الله عليه وسلم نے رکوع اور سجدوں کے ساتھ نماز ادا کی۔
- عائشہؓ نے اس نماز کے رکوع اور سجدے کو بہت لمبا بتایا۔
- سورج کے صاف ہونے تک نماز جاری رہی۔
- روایت میں راوی کے اختلاف کا ذکر بھی محفوظ ہے۔
