سنن نسائی حدیث ۱۴۹۰ - گرہن کی نماز میں رکوع اور سجدہ
نماز کسوف میں رکوع اور سجدہ
سنن نسائی : ۱۴۹۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۹۰
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى حِينَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ مِثْلَ صَلَاتِنَا يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ " .
نعمان بن بشیر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت سورج گرہن لگا ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی آپ رکوع کر رہے تھے اور سجدہ کر رہے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۴۹۰ کا خلاصہ
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کی یہ روایت بہت مختصر ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی، آپ رکوع بھی کر رہے تھے اور سجدہ بھی کر رہے تھے۔ اس حدیث میں نماز کسوف کی پوری لمبی تفصیل نہیں آئی، بلکہ ایک بنیادی بات بیان ہوئی ہے کہ گرہن کے وقت ادا کی جانے والی نماز بھی نماز ہی کی معروف صورت رکھتی ہے: اس میں قیام، رکوع اور سجدہ شامل ہیں۔ اس سے عام آدمی کے لیے بات آسان ہو جاتی ہے کہ گرہن کے موقع پر نماز کو کوئی عجیب رسم نہ سمجھا جائے، بلکہ اللہ کے سامنے کھڑے ہونا، جھکنا اور سجدہ کرنا ہی اصل عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کسوف میں رکوع اور سجدہ شامل ہیں۔
- گرہن کے وقت نماز کو عبادت کے معروف انداز میں ادا کیا گیا۔
- مختصر روایت نماز کے بنیادی ڈھانچے کو واضح کرتی ہے۔
- اللہ کے سامنے جھکنا اور سجدہ کرنا بندگی کا اہم عمل ہے۔
