سنن نسائی حدیث ۱۴۹۱ - جاہلیت کے عقیدے کی تردید

گرہن کے بارے میں جاہلیت کا عقیدہ رد کیا گیا

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۹۱

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قال : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قال : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا مُسْتَعْجِلًا إِلَى الْمَسْجِدِ وَقَدِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى حَتَّى انْجَلَتْ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا , يَقُولُونَ : إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ ، وَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ , وَلَكِنَّهُمَا خَلِيقَتَانِ مِنْ خَلْقِهِ يُحْدِثُ اللَّهُ فِي خَلْقِهِ مَا يَشَاءُ ، فَأَيُّهُمَا انْخَسَفَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ أَوْ يُحْدِثَ اللَّهُ أَمْرًا " .

نعمان بن بشیر روایت:

ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی جلدی میں گھر سے مسجد کی طرف نکلے، سورج گرہن لگا تھا، آپ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”زمانہ جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند گرہن زمین والوں میں بڑے لوگوں میں سے کسی بڑے آدمی کے مر جانے کی وجہ سے لگتا ہے۔ حالانکہ سورج اور چاند نہ تو کسی کے مرنے پر گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے پر، بلکہ یہ دونوں اللہ کی مخلوق میں سے دو مخلوق ہیں، اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں جو نیا واقعہ چاہتا ہے رونما کرتا ہے، تو ان میں سے کوئی (بھی) گہنائے تو تم نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ صاف ہو جائے، یا اللہ کوئی نیا معاملہ ظاہر فرما دے“۔

سنن نسائی حدیث ۱۴۹۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جلدی میں مسجد کی طرف نکلے، کیونکہ سورج گرہن لگا تھا۔ آپ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ کہتے تھے کہ سورج اور چاند زمین والوں میں کسی بڑے آدمی کے مرنے کی وجہ سے گہناتے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ سورج اور چاند نہ کسی کے مرنے پر گہناتے ہیں اور نہ کسی کے پیدا ہونے پر۔ یہ دونوں اللہ کی مخلوق ہیں، اللہ اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ پھر آپ نے حکم دیا کہ جب ان میں سے کوئی گہنا جائے تو نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ صاف ہو جائے۔ اس حدیث میں عقیدے کی اصلاح اور عبادت کی طرف رجوع دونوں باتیں جمع ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جاہلیت کا یہ عقیدہ غلط ہے کہ گرہن کسی بڑے شخص کی موت سے لگتا ہے۔
  • گرہن کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم جلدی مسجد کی طرف گئے۔
  • نماز کو گرہن کے ختم ہونے تک جاری رکھنے کا ذکر ہے۔
  • اللہ اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے ظاہر فرماتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں