سنن نسائی حدیث ۱۴۹۲ - گرہن اللہ کی تنبیہ ہے
گرہن کو دیکھ کر نماز اور اللہ کا خوف
سنن نسائی : ۱۴۹۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۹۲
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قال : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قال : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ , حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ وَثَابَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ، فَلَمَّا انْكَشَفَتِ الشَّمْسُ , قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا عِبَادَهُ وَإِنَّهُمَا لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ " وَذَلِكَ أَنَّ ابْنًا لَهُ مَاتَ يُقَالُ لَهُ : إِبْرَاهِيمُ , فَقَالَ لَهُ نَاسٌ فِي ذَلِكَ .
ابوبکرہ روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ سورج گرہن لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ آپ مسجد پہنچے، اور لوگ (بھی) آپ کی طرف لپکے، پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، جب سورج صاف ہو گیا تو آپ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اور یہ دونوں نہ تو کسی کے مرنے پر گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے پر، تو جب تم انہیں گہنایا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ چیز چھٹ جائے جو تم پر آن پڑی ہے“، اور آپ نے یہ اس لیے فرمایا کہ (اسی روز) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تھا، تو کچھ لوگوں نے آپ سے یہ بات کہی تھی۔
سنن نسائی حدیث ۱۴۹۲ کا خلاصہ
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ سورج گرہن لگا۔ آپ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے مسجد کی طرف نکلے اور لوگ بھی آپ کے پاس جمع ہو گئے۔ آپ نے دو رکعت نماز پڑھائی۔ جب سورج صاف ہو گیا تو فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، اللہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ یہ دونوں کسی کے مرنے یا پیدا ہونے سے نہیں گہناتے۔ جب تم انہیں گہنایا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ چیز دور ہو جائے جو تم پر آ گئی ہے۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ اسی دن آپ کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تھا، اس لیے کچھ لوگوں نے گرہن کو اس سے جوڑا، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال کی اصلاح فرمائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گرہن اللہ کی نشانی ہے جو بندے کو اللہ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کو اپنے بیٹے کے انتقال سے وابستہ نہیں کیا۔
- گرہن کے وقت نماز پڑھنے کی ہدایت دی گئی۔
- دینی بات میں غلط عوامی خیال کی اصلاح ضروری ہے۔
