سنن نسائی حدیث ۱۵۲۶ - بارش پر اللہ کا شکر

بارش پر اللہ کی حمد اور ایمان

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۵۲۶

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ : مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَلَمْ تَسْمَعُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمُ اللَّيْلَةَ , قَالَ : مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ ، يَقُولُونَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ، فَأَمَّا مَنْ آمَنَ بِي وَحَمِدَنِي عَلَى سُقْيَايَ فَذَاكَ الَّذِي آمَنَ بِي وَكَفَرَ بِالْكَوْكَبِ ، وَمَنْ قَالَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَاكَ الَّذِي كَفَرَ بِي وَآمَنَ بِالْكَوْكَبِ " .

زید بن خالد جہنی روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے سنا نہیں کہ تمہارے رب نے آج رات کیا فرمایا؟ اس نے فرمایا: میں نے جب بھی بارش کی نعمت اپنے بندوں پر کی تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا، وہ کہتا رہا: فلاں و فلاں نچھتر کے سبب ہم پر بارش ہوئی، تو رہا وہ شخص جو مجھ پر ایمان لایا، اور میرے بارش برسانے پر اس نے میری تعریف کی، تو یہ وہی شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا، اور ستاروں کا انکار کیا، اور جس نے کہا: ہم فلاں فلاں نچھتر کے سبب بارش دیئے گئے، تو یہ وہ شخص ہے جس نے میرے ساتھ کفر کیا، اور ستاروں پر ایمان رکھا“۔

سنن نسائی حدیث ۱۵۲۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں بارش کے بعد بندے کے قول اور عقیدے کی اصلاح کی گئی ہے۔ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان سنایا۔ اللہ نے فرمایا کہ جس نے کہا کہ بارش اللہ نے برسائی اور اس پر اللہ کی حمد کی، وہ اللہ پر ایمان لایا اور ستاروں کا انکار کیا۔ اور جس نے کہا کہ ہم فلاں نچھتر کے سبب بارش دیے گئے، اس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اور ستاروں پر ایمان رکھا۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بارش پر شکر، بارش کو اللہ کی رحمت سمجھنا، اور زبان سے صحیح نسبت کرنا بہت اہم ہے۔ مومن بارش کو موسم یا ستارے کی نہیں، اللہ کی عطا سمجھتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بارش ہونے پر اللہ کی حمد کرنی چاہیے۔
  • بارش کو اللہ کی طرف منسوب کرنا ایمان کے مطابق ہے۔
  • نچھتروں یا ستاروں کو بارش کا اصل سبب کہنا غلط ہے۔
  • نعمت کے بعد زبان سے شکر ادا کرنا اہم عمل ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں