سنن نسائی حدیث ۱۵۴۰ - نجد میں نماز خوف
نجد کے غزوے میں نماز خوف کا عملی طریقہ
سنن نسائی : ۱۵۴۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۵۴۰
أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ بَقِيَّةَ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، قال : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، قال : حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ وَصَافَفْنَاهُمْ " فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا ، فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مِنَّا مَعَهُ وَأَقْبَلَ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَدُوِّ فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ , ثُمَّ انْصَرَفُوا فَكَانُوا مَكَانَ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي لَمْ تُصَلِّ فَرَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ , ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَرَكَعَ لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کیا، تو ہم دشمن کے مقابل میں کھڑے ہوئے اور ہم نے صف بندی کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کھڑے ہوئے، تو ہم میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو گیا، اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلہ میں ڈٹا رہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھ والوں نے ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر یہ لوگ جا کر ان لوگوں کی جگہ پر ڈٹ گئے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی، اور اس گروہ والے (آپ کے پیچھے) آئے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی، تو آپ نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے کرائے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو مسلمانوں میں سے ہر آدمی کھڑا ہو گیا، اور اس نے خود سے ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔
سنن نسائی حدیث ۱۵۴۰ کا خلاصہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ میں گئے۔ مسلمان دشمن کے مقابل صف بنا کر کھڑے ہوئے۔ پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نماز پڑھانے کھڑے ہوئے۔ ایک گروہ آپ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نماز میں کھڑا ہوا اور دوسرا دشمن کے سامنے رہا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے ساتھ والوں کو ایک رکوع اور دو سجدے کرائے، پھر وہ لوگ جا کر ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہو گئے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی۔ پھر دوسرا گروہ آیا اور آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے کرائے۔ سلام کے بعد ہر آدمی نے خود ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔ اس حدیث میں نماز خوف کا نظم، حفاظت، اور رکعت کی تکمیل بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دشمن کے مقابل بھی نماز کا اہتمام کیا گیا۔
- گروہ باری باری امام کے ساتھ نماز میں شریک ہوئے۔
- ہر گروہ نے حفاظت کی جگہ بھی سنبھالی۔
- سلام کے بعد ہر شخص نے اپنی باقی نماز خود مکمل کی۔
