سنن نسائی حدیث ۱۵۴۶ - دو صفوں کی نماز خوف
نماز خوف میں آگے اور پیچھے صفوں کی ترتیب
سنن نسائی : ۱۵۴۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۵۴۶
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَقَامَ صَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَصَفٌّ خَلْفَهُ صَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ حَتَّى قَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَقَامُوا مَقَامَ هَؤُلَاءِ ، وَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلَهُمْ رَكْعَةٌ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خوف کی نماز پڑھائی، تو ایک صف آپ کے آگے کھڑی ہوئی، اور ایک صف آپ کے پیچھے، آپ نے ان لوگوں کے ساتھ جو آپ کے پیچھے تھے ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر یہ لوگ آگے چلے گئے یہاں تک کہ جا کر اپنے ساتھیوں کی جگہ میں کھڑے ہو گئے، اور وہ لوگ آ کر ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہو گئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ (بھی) ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر آپ نے سلام پھیرا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں، اور لوگوں کی ایک ایک۔
سنن نسائی حدیث ۱۵۴۶ کا خلاصہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی اس روایت میں نماز خوف کی ایک اور صورت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خوف کی نماز پڑھائی۔ ایک صف آپ کے آگے کھڑی ہوئی اور ایک صف آپ کے پیچھے۔ آپ نے اپنے پیچھے کھڑے لوگوں کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔ پھر وہ آگے چلے گئے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ کھڑے ہو گئے۔ اس کے بعد دوسرے لوگ آئے اور پہلے گروہ کی جگہ کھڑے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ بھی ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ اس روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور لوگوں کی ایک ایک۔ اس میں نماز خوف کا طریقہ صفوں کی تبدیلی کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز خوف میں صفوں کی جگہ بدلنے کا ذکر آیا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں گروہوں کو باری باری نماز پڑھائی۔
- ہر گروہ نے اپنی باری میں رکوع اور سجدہ کیا۔
- خطرے کی حالت میں نماز باقاعدہ ترتیب سے ادا کی گئی۔
