سنن نسائی حدیث ۱۵۴۷ - دشمن کے سامنے نماز
دشمن کے مقابل نماز خوف اور سلام کی ترتیب
سنن نسائی : ۱۵۴۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۵۴۷
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قال : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ، قال : أَنْبَأَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ : " فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَتْ خَلْفَهُ طَائِفَةٌ وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا فِي وَجْهِ الْعَدُوِّ ، وَجَاءَتْ تِلْكَ الطَّائِفَةُ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فَسَلَّمَ الَّذِينَ خَلْفَهُ وَسَلَّمَ أُولَئِكَ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
ہم (ایک غزوہ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے (نماز کا وقت ہوا) تو نماز کھڑی کی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور آپ کے پیچھے ایک گروہ کھڑا ہوا، اور ایک گروہ دشمن کے مقابل کھڑا رہا، آپ نے ان لوگوں کے ساتھ جو آپ کے پیچھے تھے ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر وہ چلے گئے، اور ان لوگوں کی جگہ آ کر کھڑے ہو گئے جو دشمن کے بالمقابل تھے، اور وہ گروہ آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ بھی ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو آپ کے پیچھے والوں نے بھی سلام پھیرا، اور ان لوگوں نے بھی۔
سنن نسائی حدیث ۱۵۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، نماز کھڑی کی گئی تو ایک گروہ آپ کے پیچھے کھڑا ہوا اور دوسرا دشمن کے مقابل رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے والوں کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔ پھر وہ گروہ چلا گیا اور ان لوگوں کی جگہ کھڑا ہو گیا جو دشمن کے سامنے تھے۔ پھر دوسرا گروہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ بھی ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔ آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ کے پیچھے والوں نے بھی سلام پھیرا اور دوسرے گروہ نے بھی۔ یہ روایت نماز خوف کا طریقہ سادہ انداز میں بتاتی ہے کہ خطرے میں بھی جماعت اور سلام کی ترتیب قائم رہی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز خوف میں ایک گروہ نماز میں اور دوسرا حفاظت میں رہا۔
- دونوں گروہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز کا حصہ ادا کیا۔
- گروہوں کی جگہ تبدیلی منظم انداز میں ہوئی۔
- سلام کے وقت سب شریک ہوئے۔
