سنن نسائی حدیث ۱۵۵۲ - دو دو رکعت نماز خوف
نماز خوف میں دو گروہوں کو الگ الگ دو رکعت
سنن نسائی : ۱۵۵۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۵۵۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِالْقَوْمِ فِي الْخَوْفِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ , ثُمَّ صَلَّى بِالْقَوْمِ الْآخَرِينَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ , فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا " .
ابوبکرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو خوف کی نماز دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر آپ نے دوسرے لوگوں کو دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعت پڑھی (اور لوگوں نے دو دو رکعت)۔
سنن نسائی حدیث ۱۵۵۲ کا خلاصہ
اس روایت میں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی حالت میں کچھ لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر سلام پھیرا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کو بھی دو رکعت پڑھائی اور پھر سلام پھیرا۔ اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعتیں پڑھیں، جبکہ لوگوں نے دو دو رکعتیں پڑھیں۔ نماز خوف کا یہ طریقہ پچھلی روایات سے ایک مختلف صورت دکھاتا ہے۔ یہاں گروہوں کی تبدیلی رکعت کے اندر نہیں، بلکہ سلام کے بعد دوسرے گروہ کے لیے الگ دو رکعت کی صورت میں آئی ہے۔ حدیث کا اصل بیان یہی ہے کہ خوف کی حالت میں بھی جماعت اور نماز کو حالات کے مطابق ادا کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک گروہ کو دو رکعت پڑھا کر سلام پھیرا گیا۔
- دوسرے گروہ کو بھی الگ دو رکعت پڑھائی گئی۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں۔
- لوگوں کی نماز دو دو رکعت رہی۔
