سنن نسائی حدیث ۱۵۵۳ - ہر گروہ کو دو رکعت
نماز خوف میں ہر گروہ کے لیے دو رکعت
سنن نسائی : ۱۵۵۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۵۵۳
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قال : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِطَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ , ثُمَّ صَلَّى بِآخَرِينَ أَيْضًا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے ایک گروہ کو (خوف کی نماز) دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر دوسرے لوگوں کو بھی آپ نے دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیرا۔
سنن نسائی حدیث ۱۵۵۳ کا خلاصہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی اس روایت میں نماز خوف کی وہ صورت بیان ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ایک گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر سلام پھیرا۔ اس کے بعد دوسرے لوگوں کو بھی دو رکعت پڑھائی اور پھر سلام پھیرا۔ اس روایت میں دشمن کے سامنے صفوں کی باری، سجدے کی باری یا رکعت کی تکمیل کی تفصیل نہیں آئی، بلکہ اصل بات یہ بیان ہوئی کہ دو الگ گروہوں کو دو دو رکعت پڑھائی گئیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز خوف کے طریقے روایات میں مختلف صورتوں سے بیان ہوئے ہیں، اور ہر روایت اپنے متن کے مطابق ایک خاص صورت بتاتی ہے۔ یہاں خاص توجہ اس بات پر ہے کہ جماعت اور نماز کو خطرے کے وقت بھی منظم رکھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کے ایک گروہ نے پہلے دو رکعت پڑھیں۔
- سلام کے بعد دوسرے گروہ کو بھی دو رکعت پڑھائی گئی۔
- روایت میں دو الگ سلام کا ذکر آیا ہے۔
- خوف کی حالت میں بھی نماز ترک نہیں کی گئی۔
