سنن نسائی حدیث ۱۵۶۰ - عید میں عورتوں کی حاضری
بالغ لڑکیوں اور پردہ والی عورتوں کا عید میں آنا
سنن نسائی : ۱۵۶۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۵۶۰
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قال : لَقِيتُ أُمَّ عَطِيَّةَ , فَقُلْتُ لَهَا : هَلْ سَمِعْتِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ وَكَانَتْ إِذَا ذَكَرَتْهُ , قَالَتْ : بِأَبِي ، قال : " أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَيَشْهَدْنَ الْعِيدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ , وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ مُصَلَّى النَّاسِ " .
محمد بن سیرین روایت:
میں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اور میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (ایسا ایسا کہتے ہوئے) سنا ہے؟ اور وہ جب بھی آپ کا ذکر کرتیں تو کہتیں: میرے باپ آپ پر فدا ہوں، (انہوں نے کہا: ہاں) آپ نے فرمایا: ”بالغ لڑکیوں کو اور پردہ والیوں کو بھی (عید کی نماز کے لیے) نکالو تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں، اور حائضہ عورتیں مصلیٰ (عید گاہ) سے الگ تھلگ رہیں“۔
سنن نسائی حدیث ۱۵۶۰ کا خلاصہ
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے؟ ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو احترام سے کہتیں کہ میرے باپ آپ پر فدا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بالغ لڑکیوں اور پردہ والیوں کو عید کی نماز کے لیے نکالو، تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں۔ ساتھ ہی فرمایا کہ حائضہ عورتیں لوگوں کے مصلیٰ سے الگ رہیں۔ اس حدیث میں عیدگاہ میں عورتوں کی شرکت، عید کے اجتماع اور مسلمانوں کی دعا میں شامل ہونے کا ذکر ہے۔ متن کے مطابق حائضہ عورتیں اجتماع میں تو آئیں، مگر نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بالغ لڑکیوں کو عید کے لیے نکلنے کا حکم دیا گیا۔
- پردہ والی عورتیں بھی عید اور دعا میں شریک ہوں۔
- حائضہ عورتیں مصلیٰ سے الگ رہیں۔
- عید کا اجتماع مسلمانوں کی دعا سے بھی جڑا ہے۔
