سنن نسائی حدیث ۱۶۰۶ - امام کے ساتھ قیام کا ثواب
امام کے ساتھ تراویح مکمل کرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۶۰۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۰۶
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قال : صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنَ الشَّهْرِ ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ ، فَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ , قَالَ : " إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ قِيَامَ لَيْلَةٍ " , ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا وَلَمْ يَقُمْ حَتَّى بَقِيَ ثَلَاثٌ مِنَ الشَّهْرِ , فَقَامَ بِنَا فِي الثَّالِثَةِ وَجَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ حَتَّى تَخَوَّفْنَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ , قُلْتُ : وَمَا الْفَلَاحُ ؟ قَالَ : " السُّحُورُ " .
ابوذر روایت:
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں روزے رکھے، تو آپ ہمارے ساتھ (تراویح کے لیے) کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ مہینے کی سات راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی، پھر چوبیسویں رات کو قیام نہیں کیا، پھر پچیسویں رات کو قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ ہماری اس رات کے باقی حصہ میں بھی اسی طرح نفلی نماز پڑھاتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے حق میں پوری رات کے قیام (کا ثواب) لکھے گا“، پھر آپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی، اور نہ آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ مہینے کی تین راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے ستائیسویں رات میں ہمارے ساتھ قیام کیا، اور اپنے اہل و عیال کو بھی جمع کیا یہاں تک کہ ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ کہنے لگے: سحری ہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوذر رضی اللہ عنہ رمضان کے آخری حصے کی نماز کا حال بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کچھ راتوں میں صحابہ کے ساتھ قیام کیا؛ ایک رات تہائی رات تک، ایک رات آدھی رات تک، اور ستائیسویں رات اتنا لمبا قیام فرمایا کہ صحابہ کو سحری چھوٹنے کا اندیشہ ہوا۔ جب ابوذر رضی اللہ عنہ نے خواہش ظاہر کی کہ کاش آپ صلى الله عليه وسلم باقی رات بھی نماز پڑھاتے، تو نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک بڑی خوش خبری دی: جو امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ امام فارغ ہو جائے، اللہ اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب لکھتا ہے۔ یہ تراویح باجماعت کی فضیلت کو آسان انداز میں سمجھاتا ہے۔ بندہ امام کے ساتھ نماز مکمل کرے تو اسے بہت بڑے اجر کی امید رکھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کے ساتھ قیام آخر تک مکمل کرنا بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے رمضان کی بعض راتوں میں صحابہ کو لمبا قیام کرایا۔
- صحابہ رمضان کی رات کی نماز میں بہت شوق رکھتے تھے۔
- حدیث میں سحری کو فلاح کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے۔
