سنن نسائی حدیث ۱۶۱۵ - قیام اللیل اور محرم کے روزے
قیام اللیل افضل نفل نماز ہے
سنن نسائی : ۱۶۱۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۱۵
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ قِيَامُ اللَّيْلِ ، وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ الْمُحَرَّمُ " أَرْسَلَهُ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ .
حمید بن عبدالرحمٰن روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز قیام اللیل (تہجد) ہے، اور رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے روزے ہیں“۔ شعبہ بن حجاج نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۱۵ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز قیام اللیل ہے، اور رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے ہیں۔ روایت کے آخر میں بتایا گیا کہ شعبہ بن حجاج نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔ اس بات کو ذکر کرنا علمی امانت ہے، مگر حدیث کا مضمون دوسری صحیح روایات سے بھی معروف ہے۔ یہاں ہمارا اصل سبق یہ ہے کہ فرض نماز کے بعد بندہ اگر نفل نماز میں آگے بڑھنا چاہے تو رات کا قیام بہت اہم راستہ ہے۔ اسی طرح رمضان کے بعد نفلی روزوں میں محرم کا مہینہ خاص فضیلت رکھتا ہے۔ حدیث میں عبادت کا صاف ترتیب ملتی ہے: فرض کی پابندی، پھر قیام اللیل، اور روزوں میں رمضان کے بعد محرم کی طرف رغبت۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیام اللیل کو فرض کے بعد افضل نماز بتایا گیا ہے۔
- محرم کے روزوں کی فضیلت اس روایت میں آئی ہے۔
- روایت کے مرسل ہونے کی بات متن میں ہی ذکر کی گئی ہے۔
- نفل عبادت کے لیے رات کا وقت خاص اہمیت رکھتا ہے۔
