سنن نسائی حدیث ۱۶۱۹ - رات اٹھ کر تسبیح پڑھنا
رات کی تسبیح: سبحان اللہ رب العالمین
سنن نسائی : ۱۶۱۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۱۹
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مَعْمَرٍ , وَالْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ ، قال : كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ , يَقُولُ : " سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الْهَوِيَّ " ثُمَّ يَقُولُ : " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ الْهَوِيَّ " .
ربیعہ بن کعب اسلمی روایت:
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے کے پاس رات گزارتا تھا، تو میں آپ کو سنتا جب آپ رات میں اٹھتے، تو دیر تک «سبحان اللہ رب العالمين» کہتے، پھر «سبحان اللہ وبحمده» دیر تک کہتے۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی صلى الله عليه وسلم کے حجرے کے پاس رات گزارتے تھے۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم رات کو اٹھتے تو وہ آپ صلى الله عليه وسلم کو دیر تک سبحان اللہ رب العالمین کہتے سنتے، پھر دیر تک سبحان اللہ وبحمدہ کہتے سنتے۔ اس روایت میں قیام اللیل کے ساتھ تسبیح کا خوبصورت پہلو سامنے آتا ہے۔ رات کی خاموشی میں اللہ کی پاکی بیان کرنا دل کو عبادت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ حدیث میں کوئی لمبی فہرست نہیں، بلکہ دو پاکیزہ جملوں کا ذکر ہے جو نبی صلى الله عليه وسلم سے رات کے وقت سنے گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رات کا وقت صرف نماز ہی نہیں، اللہ کے ذکر اور تسبیح کے لیے بھی بہت قیمتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم رات کے وقت اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔
- سبحان اللہ رب العالمین اور سبحان اللہ وبحمدہ کے الفاظ روایت میں آئے ہیں۔
- رات کی خاموشی میں ذکر دل کو عبادت کی طرف لاتا ہے۔
- مختصر ذکر بھی پابندی اور حضورِ دل سے قیمتی بن جاتا ہے۔
