سنن نسائی حدیث ۱۶۲۲ - تہجد سے پہلے مسواک کی سنت
تہجد سے پہلے مسواک کرنے کی سنت
سنن نسائی : ۱۶۲۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۲۲
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ , وَالْأَعْمَشِ , وَحُصَيْنٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ " .
حذیفہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں اٹھتے تو مسواک سے اپنا منہ ملتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا رات کا ایک سادہ مگر بہت خوبصورت عمل بیان کرتے ہیں۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم رات میں اٹھتے تو مسواک سے اپنا منہ صاف کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تہجد کی نماز اور رات کی عبادت شروع کرنے سے پہلے صفائی کا خیال رکھنا سنت نبوی ہے۔ حدیث کا اصل سبق یہی ہے کہ بندہ جب اللہ کے سامنے کھڑا ہونے لگے تو اپنے منہ کی صفائی کا اہتمام کرے۔ یہاں مسواک کی فضیلت خاص طور پر رات کو اٹھنے کے وقت سامنے آتی ہے۔ یہ عمل آسان بھی ہے اور عبادت کے ادب سے بھی جڑا ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کو اٹھتے وقت مسواک کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت ہے۔
- نماز اور ذکر سے پہلے منہ کی صفائی کا خیال رکھنا پسندیدہ عمل ہے۔
- چھوٹے اعمال بھی سنت کی پیروی کی نیت سے قیمتی بن جاتے ہیں۔
- تہجد سے پہلے پاکیزگی کا اہتمام عبادت کے ادب میں شامل ہے۔
