سنن نسائی حدیث ۱۶۲۳ - رات کی نماز سے پہلے مسواک
رات کی نماز سے پہلے مسواک کی اہم سنت
سنن نسائی : ۱۶۲۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۲۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قال : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ " .
حذیفہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں اٹھتے تو مسواک سے اپنا منہ ملتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۲۳ کا خلاصہ
یہ روایت بھی حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ہے، جس میں وہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب رات میں اٹھتے تو مسواک سے اپنا منہ ملتے تھے۔ الفاظ بہت مختصر ہیں، مگر عمل بہت معنی رکھتا ہے۔ رات کی نیند کے بعد منہ میں تبدیلی آتی ہے، اس لیے نبی صلى الله عليه وسلم تہجد یا رات کی عبادت سے پہلے مسواک کرتے تھے۔ اس حدیث سے مسواک کی سنت، رات کی نماز کا ادب، اور عبادت سے پہلے صفائی کا مزاج سمجھ آتا ہے۔ عام مسلمان کے لیے یہ آسان عمل ہے۔ جب بھی رات میں نماز کے لیے اٹھے، مسواک یا منہ کی صفائی کا اہتمام کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کو بیدار ہونے کے بعد مسواک کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کا معمول تھا۔
- تہجد کی نماز سے پہلے صفائی کا خیال رکھنا اچھا عمل ہے۔
- سنت پر عمل کے لیے بڑے کام کی شرط نہیں، چھوٹے عمل بھی اہم ہیں۔
- عبادت سے پہلے منہ کی صفائی ادب اور پاکیزگی سے جڑی ہے۔
