سنن نسائی حدیث ۱۶۳۴ - موسیٰ علیہ السلام کی قبر میں نماز
موسیٰ علیہ السلام اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے
سنن نسائی : ۱۶۳۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۳۴
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قال : أَنْبَأَنَا ثَابِتٌ , وَسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ , عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَرَرْتُ عَلَى قَبْرِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ " .
انس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں موسیٰ علیہ السلام کی قبر پر سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل ہوا ہے کہ میں موسیٰ علیہ السلام کی قبر پر سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ یہ روایت ایک غیبی واقعہ بیان کرتی ہے، جسے ہمیں اسی طرح ماننا چاہیے جیسے نبی صلى الله عليه وسلم نے بتایا۔ اس حدیث میں نہ وقت کی لمبی تفصیل ہے، نہ نماز کی کیفیت کی تفصیل، بلکہ صرف یہ بات بیان ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نماز پڑھ رہے تھے۔ اس سے نماز کی فضیلت اور انبیاء کی عبادت کا ایک پہلو سامنے آتا ہے۔ ایسے موضوعات میں اپنی رائے سے تفصیل بڑھانا مناسب نہیں، بلکہ حدیث کے الفاظ پر رکنا بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔
- یہ غیبی خبر نبی صلى الله عليه وسلم کے بیان سے معلوم ہوتی ہے۔
- نماز انبیاء علیہم السلام کی عبادت میں اہم مقام رکھتی ہے۔
- غیبی امور میں حدیث کے بیان تک محدود رہنا چاہیے۔
