سنن نسائی حدیث ۱۶۳۹ - رغبت اور خوف کی نماز

رغبت اور خوف کی نماز میں امت کے لیے دعا

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۳۹

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبِي ، وَبَقِيَّةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، قال : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، قال : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ رَاقَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ كُلَّهَا حَتَّى كَانَ مَعَ الْفَجْرِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ جَاءَهُ خَبَّابٌ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَقَدْ صَلَّيْتَ اللَّيْلَةَ صَلَاةً مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ نَحْوَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا ثَلَاثَ خِصَالٍ فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً ، سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكَنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَنَا فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْنَا عَدُوًّا مِنْ غَيْرِنَا فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يَلْبِسَنَا شِيَعًا فَمَنَعَنِيهَا " .

خباب بن ارت روایت:

انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری رات نماز پڑھتے دیکھا یہاں تک کہ فجر ہو گئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز سے سلام پھیرا، تو خباب رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے آج رات ایسی نماز پڑھی کہ اس طرح میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں یہ رغبت اور خوف کی نماز تھی، میں نے اپنے رب سے اس میں تین باتوں کی درخواست کی، تو اس نے دو مجھے دے دیں اور ایک نہیں دی، میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ ہمیں اس چیز کے ذریعہ ہلاک نہ کرے جس کے ذریعہ اس نے ہم سے پہلے کی امتوں کو ہلاک کیا، تو اس نے یہ مجھے دے دی، اور میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ کسی دشمن کو جو ہم میں سے نہ ہو ہم پر غالب نہ کرے، تو اسے بھی اس نے مجھے دے دیا، اور میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ ہم میں پھوٹ نہ ڈالے، اور ہم گروہ در گروہ نہ ہوں، تو اس نے میری یہ درخواست قبول نہیں کی“۔

سنن نسائی حدیث ۱۶۳۹ کا خلاصہ

خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو پوری رات نماز پڑھتے دیکھا، یہاں تک کہ فجر ہو گئی۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم نے سلام پھیرا تو خباب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آج رات آپ نے ایسی نماز پڑھی جو پہلے نہیں دیکھی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ رغبت اور خوف کی نماز تھی۔ اس نماز میں آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے رب سے تین باتیں مانگیں۔ دو عطا ہوئیں: پہلی یہ کہ امت کو سابقہ امتوں کی طرح کسی عذاب سے ہلاک نہ کیا جائے، دوسری یہ کہ باہر کا دشمن پوری طرح غالب نہ کیا جائے۔ تیسری درخواست یہ تھی کہ امت گروہ در گروہ نہ ہو، یہ عطا نہیں کی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے امت کے لیے رات بھر دعا اور نماز کا اہتمام فرمایا۔
  • رغبت اور خوف دونوں کیفیتوں کے ساتھ اللہ سے مانگنا درست ہے۔
  • آپ صلى الله عليه وسلم نے امت کی حفاظت اور بھلائی کے لیے دعا کی۔
  • حدیث میں بتایا گیا کہ تین دعاؤں میں سے دو عطا ہوئیں اور ایک نہ دی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں