سنن نسائی حدیث ۱۶۴۰ - رمضان کے آخری عشرے کی شب بیداری
رمضان کے آخری عشرے میں شب بیداری
سنن نسائی : ۱۶۴۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۴۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قال : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا " كَانَ إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ أَحْيَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ " .
مسروق روایت:
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب (رمضان کا آخری) عشرہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب بیداری فرماتے، اور اپنے اہل و عیال کو بیدار کرتے، اور (عبادت کے لیے) کمر بستہ ہو جاتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۴۰ کا خلاصہ
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم رات کو بیدار رہتے، اپنے اہل و عیال کو بیدار کرتے، اور عبادت کے لیے کمر بستہ ہو جاتے تھے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع رمضان کے آخری عشرے کی عبادت ہے۔ یہاں نبی صلى الله عليه وسلم کا ذاتی عمل بھی ہے اور گھر والوں کو شامل کرنے کا انداز بھی۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری عشرے میں عبادت کا اہتمام بڑھ جاتا تھا۔ شب بیداری، اہل خانہ کو جگانا، اور عبادت کے لیے سنجیدہ تیاری، یہ تینوں باتیں اس حدیث میں صاف بیان ہوئی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کے آخری عشرے میں نبی صلى الله عليه وسلم عبادت کا اہتمام بڑھا دیتے تھے۔
- آپ صلى الله عليه وسلم اپنے اہل خانہ کو بھی عبادت کے لیے بیدار کرتے تھے۔
- شب بیداری آخری عشرے کے اعمال میں سے ہے۔
- عبادت کے لیے سنجیدہ تیاری نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے معلوم ہوتی ہے۔
