سنن نسائی حدیث ۱۶۴۱ - رات کے آخری حصے کی عبادت
رات کے آخری حصے میں عبادت کا نبوی معمول
سنن نسائی : ۱۶۴۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۴۱
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قال : أَتَيْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَكَانَ لِي أَخًا صَدِيقًا , فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَمْرٍو حَدِّثْنِي مَا حَدَّثَتْكَ بِهِ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَتْ : " كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ " .
ابواسحاق سبیعی روایت:
میں اسود بن یزید کے پاس آیا، وہ میرے بھائی اور دوست تھے، تو میں نے کہا: اے ابوعمرو! مجھ سے وہ باتیں بیان کریں جن کو ام المؤمنین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بیان کیا ہے، تو انہوں نے کہا: وہ کہتی ہیں کہ آپ شروع رات میں سوتے تھے، اور اس کے آخر کو زندہ رکھتے تھے ۱؎۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے مطابق رسول اللہ صلى الله عليه وسلم شروع رات میں سوتے تھے اور رات کے آخری حصے کو زندہ رکھتے تھے۔ یہاں زندہ رکھنے سے مراد متن کے مطابق آپ صلى الله عليه وسلم کی رات کی نماز کا معمول ہے، جس کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ یہ حدیث تہجد اور قیام اللیل کے وقت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا معمول یہ بتایا گیا کہ رات کے شروع حصے میں آرام ہوتا اور آخر حصے میں عبادت۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رات کے آخری حصے میں نماز کا خاص اہتمام تھا، لیکن حدیث میں مقدار یا رکعتوں کی تفصیل نہیں دی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم شروع رات میں آرام فرماتے تھے۔
- آپ صلى الله عليه وسلم رات کے آخری حصے کو عبادت سے زندہ رکھتے تھے۔
- تہجد کے لیے رات کا آخری حصہ اہم وقت کے طور پر سامنے آتا ہے۔
- حدیث میں وقت کا بیان ہے، رکعتوں کی تفصیل نہیں۔
