صحیح بخاری حدیث ۲۰۲۴ - آخری عشرے میں عبادت کی محنت
رمضان کے آخری عشرے کی عبادت: نبی صلى الله عليه وسلم کا معمول
صحیح بخاری : ۲۰۲۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۲۴
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ ، شَدَّ مِئْزَرَهُ ، وَأَحْيَا لَيْلَهُ ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ " .
عائشہ روایت:
جب (رمضان کا) آخری عشرہ آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا تہبند مضبوط باندھتے (یعنی اپنی کمر پوری طرح کس لیتے) اور ان راتوں میں آپ خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگایا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان کے آخری عشرے کا معمول بیان کرتی ہیں۔ جب آخری عشرہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر کس لیتے، راتوں کو جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے۔ عام فہم انداز میں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان راتوں کو خاص توجہ دیتے تھے۔ رمضان کا آخری عشرہ صرف معمول کی عبادت کا وقت نہیں، بلکہ زیادہ کوشش، جاگنے اور گھر والوں کو بھی نیکی کی طرف متوجہ کرنے کا وقت ہے۔ اس حدیث میں شب قدر کا لفظ نہیں آیا، مگر آخری عشرہ کی عبادت کا انداز صاف نظر آتا ہے۔ مسلمان کے لیے یہ حدیث ایک نرم مگر مضبوط یاد دہانی ہے کہ رمضان کے آخر میں غفلت نہ کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کے آخری عشرے میں عبادت کے لیے زیادہ محنت کرنا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا معمول تھا۔
- نیکی میں گھر والوں کو بھی ساتھ شامل کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
- ان راتوں میں جاگ کر عبادت کرنا اس حدیث سے ثابت ہے۔
