سنن نسائی حدیث ۱۶۵۰ - عمر کے بعد بیٹھ کر نماز
بڑھاپے میں بیٹھ کر نفل نماز کا نبوی انداز
سنن نسائی : ۱۶۵۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۵۰
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى جَالِسًا حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ ، فَكَانَ يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ ، فَإِذَا غَبَرَ مِنَ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ بِهَا ثُمَّ رَكَعَ " .
عائشہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی ہو یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہو گئے، تو (جب آپ بوڑھے ہو گئے) تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور بیٹھ کر قرآت کرتے، پھر جب سورۃ میں سے تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو ان کی قرآت کھڑے ہو کر کرتے، پھر رکوع کرتے۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۵۰ کا خلاصہ
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہو گئے۔ پھر آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور بیٹھے ہوئے قرأت کرتے۔ جب سورۃ میں سے تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو آپ کھڑے ہو جاتے، انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے، پھر رکوع کرتے۔ اس حدیث میں بیٹھ کر نماز کا تعلق عمر اور جسمانی حالت سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ روایت نفل نماز کے ایک عملی طریقے کو بیان کرتی ہے، نہ کہ ہر نماز کے لیے ایک ہی حکم۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کو چھوڑا نہیں، بلکہ حالت کے مطابق آسان انداز اختیار فرمایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمر بڑھنے کے بعد نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا عمل بیان ہوا ہے۔
- بیٹھ کر قرأت کے بعد باقی آیات کھڑے ہو کر پڑھی گئیں۔
- رکوع سے پہلے قیام کیا گیا۔
- عبادت جسمانی حالت کے مطابق جاری رکھی جا سکتی ہے۔
