سنن نسائی حدیث ۱۶۵۱ - رکوع سے پہلے قیام
بیٹھ کر قرأت کے بعد رکوع سے پہلے کھڑے ہونا
سنن نسائی : ۱۶۵۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۵۱
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قال : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کرتے اور بیٹھے ہوتے، تو جب آپ رکوع کرنا چاہتے تو آدمی کے چالیس آیتیں پڑھنے کے بقدر (باقی رہنے پر) کھڑے ہو جاتے۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۵۱ کا خلاصہ
اس روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے قرأت کرتے، پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو اتنی دیر کے لیے کھڑے ہو جاتے جتنی دیر میں کوئی آدمی چالیس آیتیں پڑھ لے۔ اس حدیث میں بیٹھ کر نفل نماز کا ایک مختصر مگر اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت بیٹھ کر کی، مگر رکوع سے پہلے کھڑے ہوئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفل نماز میں حالت بدلنے کا ایک عملی طریقہ بھی موجود ہے۔ حدیث کا موضوع بیٹھ کر نماز، قرأت اور رکوع سے پہلے قیام ہے۔ یہ بات متن ہی سے معلوم ہوتی ہے، اس میں کسی اضافی واقعے یا حکم کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیٹھ کر قرأت کے بعد رکوع سے پہلے کھڑا ہونا بیان ہوا ہے۔
- قیام کی مقدار چالیس آیتوں کے برابر بتائی گئی۔
- نفل نماز میں بیٹھنے اور کھڑے ہونے دونوں حالتیں آ سکتی ہیں۔
- نماز میں ترتیب کا خیال رکھا گیا۔
