سنن نسائی حدیث ۱۶۵۹ - ترتیل کے ساتھ نفل نماز

بیٹھ کر نفل نماز اور ٹھہر ٹھہر کر تلاوت

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۵۹

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ ، فَكَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا " .

حفصہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نفل پڑھتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ اپنی وفات سے ایک سال قبل آپ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے، آپ سورت پڑھتے تو اتنا ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ طویل سے طویل تر ہو جاتی۔

سنن نسائی حدیث ۱۶۵۹ کا خلاصہ

ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل نماز بیٹھ کر پڑھتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ وفات سے ایک سال پہلے آپ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ آپ سورت پڑھتے تو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے، یہاں تک کہ وہ سورت لمبی محسوس ہونے لگتی۔ اس حدیث میں دو چیزیں بہت صاف ہیں: آخری وقت میں بیٹھ کر نفل نماز، اور قرأت میں ترتیل یعنی ٹھہراؤ۔ متن میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر شخص کو ہر حال میں ایسا ہی کرنا لازم ہے، بلکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا بیان ہے۔ اس سے نماز میں جلدی نہ کرنے، قرأت کو سمجھ کر اور آرام سے پڑھنے کی ترغیب ملتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وفات سے ایک سال پہلے آپ صلى الله عليه وسلم بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے لگے۔
  • قرأت ٹھہر ٹھہر کر کی جاتی تھی۔
  • آرام سے پڑھنے سے سورت لمبی محسوس ہوتی تھی۔
  • نفل نماز میں اطمینان اور ترتیل کا سبق ملتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں