سنن نسائی حدیث ۱۶۵۸ - ذمہ داریوں کے بعد بیٹھ کر نماز
کمزوری کے بعد بیٹھ کر نماز پڑھنا
سنن نسائی : ۱۶۵۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۵۸
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، قال : أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قال : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ قَاعِدٌ ؟ قَالَتْ : " نَعَمْ ، بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ " .
عبداللہ بن شقیق روایت:
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اس کے بعد کہ لوگوں نے آپ پر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو کمزور کر دیا۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۵۸ کا خلاصہ
عبداللہ بن شفیق کہتے ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، اس کے بعد کہ لوگوں نے آپ پر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو کمزور کر دیا۔ اس روایت میں بیٹھ کر نماز کا سبب جسمانی کمزوری کے انداز میں بیان ہوا ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزوری کے بعد بھی عبادت جاری رکھی، مگر طریقہ حالت کے مطابق ہو گیا۔ یہاں کوئی لمبی تفصیل نہیں، صرف سوال اور جواب ہے۔ اس لیے اس سے یہی بات اخذ کی جائے کہ بیٹھ کر نفل نماز پڑھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں آیا، خاص طور پر جب جسمانی طاقت پہلے جیسی نہ رہی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی تصدیق کی۔
- روایت میں کمزوری کا سبب ذکر کیا گیا ہے۔
- عبادت جسمانی حالت کے مطابق جاری رہ سکتی ہے۔
- سوال پوچھ کر دینی بات سیکھنے کا انداز بھی ملتا ہے۔
