سنن نسائی حدیث ۱۶۵۷ - بیشتر نماز بیٹھ کر
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی بہت سی نمازیں بیٹھ کر
سنن نسائی : ۱۶۵۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۵۷
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قال : أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَمُتْ حَتَّى كَانَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
ابن جریج روایت:
مجھے عثمان بن ابی سلیمان نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ ابوسلمہ نے انہیں خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ اپنی بیشتر نمازیں بیٹھ کر پڑھنے لگے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۵۷ کا خلاصہ
اس روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ اپنی بہت سی نمازیں بیٹھ کر پڑھنے لگے تھے۔ حدیث بہت مختصر ہے، مگر بیٹھ کر نماز کے مسئلے میں ایک واضح بات دیتی ہے۔ یہاں فرض نماز کی تفصیل نہیں آئی، مگر اسی موضوع کی دوسری روایات میں فرض نماز کو الگ ذکر کیا گیا ہے۔ اس متن کے مطابق اصل بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عمر میں جسمانی حالت کے سبب بہت سی نمازیں بیٹھ کر ادا فرمائیں۔ اس سے نفل عبادت میں آسانی کا پہلو سمجھ آتا ہے۔ عبادت صرف ایک ہی جسمانی حالت تک محدود نہیں، بلکہ بندہ اپنی حالت کے مطابق اللہ کے حضور حاضر رہ سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے آخری عمر میں بہت سی نمازیں بیٹھ کر پڑھیں۔
- بیٹھ کر نماز کا عمل نبوی روایت میں موجود ہے۔
- جسمانی حالت بدلنے پر نفل عبادت کا انداز بدل سکتا ہے۔
- اصل مقصد نماز کو جاری رکھنا ہے۔
